کوئی بھی پردہ نشین مسلمان عورت جو اپنی شرعی احکامات کی روشنی میں گھر سے باہر نہ نکلتی ہو اسے کسی بھی عدالت میں حاضر ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا
عورت کو ایک بلند مرتبہ انسان کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے تاکہ معلوم ہو کھ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیا ہے؟ عورت کو ایسی مخلوق کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو بلند انسانوں کی پرورش کرکے معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تب اندازہ ہوگا کہ عورت کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیسی ہونا چاہئے۔ عورت کو خاندان اور کنبے کے بنیادی عنصر وجودی کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے، ویسے کنبہ تو مرد اور عورت دونوں سے مل کے تشکیل پاتا ہے اور دونوں ہی اس کے معرض وجود میں آنے اور بقاء میں بنیادی کردار کے حامل ہیں لیکن گھر کی فضا کی طمانیت اور آشیانے کا چین و سکون عورت اور اس کے زنانہ مزاج پر موقوف ہے۔ عورت کو اس نگاہ سے دیکھا جائے تب معلوم ہوگا کہ وہ کس طرح کمال کی منزلیں طے کرتی ہے اور اس کے حقوق کیا ہیں؟
1973ء میں منظور کردہ آئین پاکستان میں خاص طور پر صنفی مساوات کی ضمانت دی گئی تھی۔ آئین میں یہ شرط دی گئی ہے کہ "صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔" اس کے علاوہ آئین شادی، کنبہ، ماں اور بچے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ " قومی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی بھرپور شرکت" کو بھی یقینی بناتا ہے
معاشرتی ترقی اور پاکستان میں خواتین کی زندگی پر قبائلی اور جاگیردارانہ معاشرتی تشکیل کے اثرات کی وجہ سے، پاکستان میں خواتین کی حیثیت مختلف طبقات، علاقوں اور دیہی/شہری تقسیم میں کافی حد تک مختلف ہے۔ جینڈرز کنسرن انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کے مجموعی حقوق میں بہتری آئی ہے، اس کی وجہ خواتین کی تعلیم اور خواندہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافہ ہے۔
تاہم، پاکستان میں خواتین کو طبقاتی معاشرے کے نتیجے میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو درپیش کچھ پریشانیوں میں گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، عصمت دری اور اغوا، ازدواجی عصمت دری، جبری شادی اور اسقاط حمل ہیں۔[13] 2020ء کی عالمی جینڈر گیپ انڈیکس کی رپورٹ میں پاکستان کو کل 153 ممالک میں سے 151 واں درجہ دیا گیا ہے۔ تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن (ٹی آر ایف ) کے ذریعہ کیے گئے ایک سروے میں پاکستان کو خواتین کے لیے چھٹا خطرناک ترین ملک ر دیا گیا ہے۔

No comments:
Post a Comment