Wednesday, 17 April 2024

power of justice if piece.

 جسٹس آف پیں دوسرے فریق کو سنے بغیر بھی ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے سکتا ہے

 سے متعلقʼʼضابطہ فوجداری کی دفعہ 22اے اور22 اے (6)کے ذریعے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج/جسٹس آف پیس کے پولیس کوایف آئی آر کے اندراج کا حکم دینے کے اختیارʼʼ کے خاتمے کے حوالے سے دائردرخواستیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے بطور جسٹس آف پیس نیم عدالتی اختیارات ہیں ،جو کہ آئین کے بنیادی حقوق کے کسی آرٹیکل سے متصادم نہیں ہیں اس لئے اس حوالے سے عدالت میں زیر سماعت تمام مقدمات کو متعلقہ عدالتوں میں سماعت کے لئے لگایا جائے تاکہ متعلقہ بنچ ان پر قانون کے مطابق فیصلے جاری کرسکیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کوجاری کیا گیا 28صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے، جسے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 12فروری 2016کو فریقین کے وکلاء اور امائیکس کیورائے خواجہ حارث احمد کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا تھا۔ ایف آئی آر کے اندراج سے متعلقʼʼضابطہ فوجداری کی دفعہ 22اے اور22 اے (6)کے ذریعے سیشن جج/جسٹس آف پیس کے پولیس کوایف آئی آر کے اندراج کا حکم دینے کے اختیار سے متعلق یونس عباس بنام ایڈیشنل سیشن جج چکوال سمیت اسی نوعیت کی تقریباً 100کے قریب درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں جنہیں یکجا کرتے ہوئے لارجر بنچ میں اس خاص نکتہ پر سماعت کی گئی تھی کہ آیا کہʼʼڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج کے بطور جسٹس آف پیس پولیس کوایف آئی آر کے اندراج کا حکم دینے کا اختیار آئین سے متصادم تو نہیں ہے؟ʼʼ عدالت نے سینیئر وکیل خواجہ حارث احمد کو امائیکس کیورائے(عدالت کو دوست )مقرر کیا تھا جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھاکہ ان دفعات کے تحت سیشن جج/ جسٹس آف پیس کسی بھی شکایت کی صورت میں پولیس کو صرف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیتا ہے اور تفتیش میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر تاہے اس لئے اس کا یہ اختیار آئین کیخلاف نہیں ہے جبکہ درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ ایف آئی آر درج کرنا پولیس کا اختیارہے، جسٹس آف پیس کے ذریعے ایف آئی آر کا اندراج آئین کیخلاف ہے، اس لئے اس اختیار کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ جسٹس آف پیس کے ان نیم عدالتی اختیارات کو کسی صور ت بھی انتظامی اختیارات قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اوراس کے یہ اختیارات کسی صورت بھی پولیس کی تفتیش میں مداخلت کا باعث نہیں بنتے ہیں،نہ ہی یہ اختیارات ،محمد بشیر بنام ایس ایچ او اوکاڑہ یا بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز بنام حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری داخلہ کیس میں سپریم کورٹ کے جاری فیصلہ کی خلاف ورزی ہیں۔ان دفعات کا جائزہ لینے کے بعد بالکل واضح ہے کہ یہ دفعات آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے کسی صورت بھی متصادم نہیں ہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پرانصاف کی فراہمی کی سہولت بھی مہیا کرتی ہیں۔ جب جسٹس آف پیس کوئی ڈائریکشن جاری کرتا یا کوئی ایکشن لیتا ہے تو وہ انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں لاتا ہے ،اس لئے ان دفعات کو آئین سے متصادم قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ،اس لئے یہ درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔یاد رہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22اے اور22 اے (6) کے تحت ملک بھر کی تمام ضلعی عدالتوں کے سیشن ججز کے پاس بطور جسٹس آف پیس کسی بھی شکایت کی صورت میں پولیس کوایف آئی آر کے اندراج کا حکم دینے کا اختیار ہے۔


On November 21, 2002 ex-officio Justice of the Peace in Pakistan were conferred an additional role through promulgation of the Criminal Procedure (Third Amendment) Ordinance (Federal Ordinance No.CXXXI) of 2002 and this role was in respect of entertaining complaints and issuance of appropriate directions to the police authorities concerned regarding registration of criminal cases and in respect of neglect, failure or excess committed by the police authorities in relation to its functions and duties. PLD 2005 Lah 470.

The provisions of sections 22-A, & 22-B, Cr.P.C, have been added to the Statute Book whereby Sessions Judges and Judge of a High Court, by virtue of their office being justice of peace, can exercise all powers of a police u/s 54. Cr.P.C. PLD 2002 Kar 328.

Amendments in the Criminal Procedure Code 1898, have been so made to lessen the burden of High Court which was created through filing of writ petitions seeking registration of cases and transfer of investigations. PLD 2007 SC 539, 2005 MLD 1593.

 Object of Section 22-A Cr.P.C. is only, that if a grievance is voiced with regard to non-registration of FIR in a cognizable offence, Justice of the Peace in terms of said section can only direct/suggest as to whether in the terms of Section 154, Cr.P.C the S.H.O. had acted legally or illegally. 2007 P.Cr.L.J 124.

Object of Section 22-A Cr.P.C. is to provide a responsible forum at the door step of citizen for rescue against unlawful declines relating to registration of cases in cognizable offences. PLD 2008 Pesh 53.

No comments:

China Police Station

 چین کے شہر ہانزو (Hangzhou) کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ ہے، یہ دنیا کا پہلا اسمارٹ پولیسنگ شہر ہے، حکومت نے شہر میں چالیس ہزار اسمارٹ کیمرے لگ...