Sunday, 16 March 2025

China Police Station

 چین کے شہر ہانزو (Hangzhou) کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ ہے، یہ دنیا کا پہلا اسمارٹ پولیسنگ شہر ہے، حکومت نے شہر میں چالیس ہزار اسمارٹ کیمرے لگارکھے ہیں، تمام کیمرے 167 پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ منسلک ہیں، شہر میں کوئی شخص جرم کے بعد ان کیمروں سے بچ نہیں سکتا-

ایک شخص اپنا موبائل فون ٹیکسی میں بھول گئے، پولیس نے ان سے صرف ایک سوال پوچھا، آپ کس وقت اور کہاں ٹیکسی سے اترے تھے، اس شخص نے وقت اور جگہ بتا دی، پولیس نے یہ دونوں معلومات کمپیوٹر پر ٹائپ کیں اور ٹیکسی اور ڈرائیور کا پورا ڈیٹا کھل گیا، وہ ٹیکسی مسافر کو اتارنے کے بعد کہاں کہاں گئی تھی یہ بھی پتہ چل گیا اور ڈرائیور اور اس کے خاندان کے سارے ایڈریسز اور موبائل فون نمبر بھی سامنے آ گئے، ڈرائیور اپنا فون بند کر کے گھر چلا گیا تھا۔

پولیس نے پہلے اس کے ذاتی نمبروں پر رابطہ کیا، وہ بند ملے تو اس کی بہن کو فون کر کے بتایا، تمہارے بھائی نے مسافر کا فون چوری کر لیا ہے، اسے جا کر بتاؤیہ اگر آدھ گھنٹے میں فون کے ساتھ پولیس سٹیشن نہ پہنچا تو ہم اسے گرفتار کر لیں گے، وہ شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ ڈرائیور آدھ گھنٹے میں فون لے کر تھانے پہنچ گیا، اس نے مسافر اور پولیس دونوں سے معافی بھی مانگی، اس شخص نے پولیس سے پوچھا، کیا آپ تمام جرائم ان کیمروں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں، پولیس افسر نے بتایا، ہم لوگ پولیس سٹیشن سے باہر نہیں جاتے، ہم مجرم کی تصویر، نام یا شناختی نشان سسٹم میں ڈالتے ہیں اور چالیس ہزار کیمرے چند لمحوں میں اسے تلاش کر لیتے ہیں۔




 آپ دیکھ لیجیے دنیا کی ماڈرن پولیسنگ کہاں پہنچ چکی ہے ماڈرن دور کے نئے پروفیشنز وجود میں آچکے ہیں، صرف اس ایک انڈسٹری سے 16 اور انڈسٹریز اور پروفیشنز جڑے ہوئے ہیں جبکہ ہم ابھی تک بچوں کو پرانے پروفیشنز میں ڈالنے کے لیے پریشان ہوئے جا رہے ہیں۔

 بچوں کے ٹیلنٹ ڈسکور کریں انھیں نئے آئیڈیاز دیں اورانھیں نئے پروفیشنز سے روشناس کرائیں یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ہماری ترقی کا راستہ بھی۔

Thursday, 6 March 2025

Crupption in court staff

 *کورٹ اسٹاف سائلین اور وکلاء سے رقم کا مطالبہ کرتا ہے، جسٹس بابر ستار نے خط لکھ دیا*


ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر ان کے سیکریٹری نے رجسٹرار کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہوکر آئے اسٹاف کی سائلین سے رشوت لینےکی شکایات ہیں۔



جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر لکھے خط کی نقول تمام ججز کے سیکریٹریز کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، خط قائم مقام چیف جسٹس کے آفس کو موصول ہوگیا، قائم مقام چیف جسٹس کے سیکریٹری نے خط کے موصول ہونے کی تصدیق کردی


خط میں کہا گیا ہے کہ میرے علم میں لایا گیا ہے کورٹ اسٹاف سائلین اور وکلاء سے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں تباہ کن پریکٹس نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، سائلین سے رقم لینے والے عملے کے خلاف انکوائری کرکے برائی کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔


خط میں کہا گیا کہ اسلام ہائی کورٹ کے کورٹ رومز اور کوریڈورز کی ویڈیو مانیٹرنگ ہوتی ہے، رجسٹرار آفس دو ہفتے کی فوٹیج نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسٹاف مطالبہ کرکے رقم لے رہا ہے، اگر ایسے مطالبات کی رپورٹس درست ثابت ہوں تو ملوث اسٹاف کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔


جسٹس بابر ستار کے خط میں کہا گیا کہ کورٹ ملازمین کا کسی وکیل یا سائل سے رقم لینا رشوت ستانی کے زمرے میں آتا ہے، اس طرح رقم لینا انصاف کی فراہمی کے بدلے میں رینٹ لینے کے مترادف ہے، اس پریکٹس کو کارروائی کرکے ختم نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کا کلچر خراب ہوگا۔

Saturday, 1 March 2025

Rajpoot History

 راجپوتوں کے شاہی القاب و خطابات


دنیا میں سب سے زیادہ القاب و خطابات صرف راجپوت قوم کے ہیں - 


راجپوت القاب و خطابات کی وضاحت بمعہ مثال 


01 : راجا ، مہاراجا 

راجا کے معنی بادشاہ کے ہیں - 

راجا ، راجپوتوں کا شاہی لقب ہے -

راجا سب سے پرانا لقب ہے -

راجا لقب زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے ، جبکہ میدانی اور صحرائی علاقوں میں بھی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے - 

ہر مذہب کے راجپوت ، راجا لقب استعمال کرتے ہیں جیسے 

ہندو مت کے راجا پورس نے سکندر اعظم سے جنگ لڑی -

اسلام مذہب کے راجا چاقو خان نے چکوال شہر کا نام رکھا -

بدھ مت میں راجا اشوکا اور راجا ہرش وردھن جیسے راجپوت سورماؤں نے جنم لیا -

جین مت کے بانی راجا مہاویر جین بھی راجپوت گھرانے کے چشم و چراغ تھے -

سکھ مت میں راجا لکشمن دیو منہاس (بندہ سنگھ بہادر) جیسے یودھا پیدا ہوئے -

مہاراجا لقب بھی راجا سے نکلا ہے جس کے معنی عظیم بادشاہ کے ہیں - 

جئے پور شہر کے بانی مہاراجا جئے سنگھ کشواہا تھے -

مسلمان راجپوتوں میں تقسیم ہند سے پہلے محمود آباد کے تلوکر راجپوت ، مہاراجا لقب استعمال کرتے تھے جن میں مشہور شخصیت مہاراجا امیر محمد احمد خان تلوکر کی ہے جو کہ قائد اعظم کے دوست تھے - 


02 : رانا ، مہارانا

رانا کے معنی بھی بادشاہ کے ہیں -

رانا لقب کی میواڑ کے سیسوڈیہ راجپوت رانا حمیر سنگھ سے ہوتی ہے جنہوں نے والد راول رتن سنگھ کے بعد خلجی کو ہرا کر "رانا" لقب استعمال کیا -

رانا بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے - 

رانا لقب ہر علاقے اور ہر مذہب کے راجپوت استعمال کرتے چاہے وہ پاکستان و ہندوستان کے ہوں یا نیپال و بنگال کے ہوں -

رانا سانگا نے 100 سے زیادہ جنگیں لڑیں - 

رانا لقمان مہرو خان جوئیہ پنجاب سے پہلے مجاہد تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا - 

رانا گرمیت سنگھ سوڈھی ایک سکھ راجپوت ہیں جو کہ بھارت کی سیاسی شخصیت ہیں - 

مہارانا کا معنی بھی عظیم بادشاہ کے ہیں - یہ لقب زیادہ مشہور صرف مہارانا پرتاب سنگھ کی وجہ سے ہے ، جن کی تلوار کا زور اتنا تھا کہ سورا کے ساتھ میدان جنگ میں گھوڑا بھی چیر کے ٹکڑے کر دیتے تھے - 


03 : راؤ ، مہاراؤ

راؤ کے معنی بادشاہ اور مہاراؤ کے معنی عظیم بادشاہ کے ہیں -

راؤ لقب تمام تر راجپوتوں میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا لقب ہے -

راؤ مالدیو راٹھور اپنے وقت کے طاقتور حکمران تھے جنہوں نے لودھی خاندان سمیت کئی اور سلطنتوں کو بار بار ہرایا تھا -

راؤ بشارت خان پنوار جنگ آزادی میں ایک مجاہد تھے -

راؤ بجر سنگھ راٹھور کا تعلق سکھ راجپوت گھرانے سے تھا جنہوں نے خالصہ فوج میں شمولیت کے بعد کئی جنگیں لڑیں - 

مہاراؤ شیخا جی کشواہا کی اولاد شیخاوت راجپوت کہلائی - 


04 : راول ، مہاراول

راول کے معنی بادشاہ اور

مہاراول کے معنی عظیم بادشاہ کے ہیں -

راول بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے -

راول لقب زیادہ تر ہندو راجپوت استعمال کرتے ہیں -

پاکستان کا دراوڑ قلعہ راول دیو راج پال سنگھ بھٹی نے تعمیر کروایا - 

بپا راول نے عرب حملہ آوروں کو ہرایا اور راولپنڈی شہر کی بنیاد رکھی -

مہاراول جیسل سنگھ بھٹی نے جیسلمیر شہر کی بنیاد رکھی -  


05 : رائے ، رائے زادہ

رائے کے معنی بادشاہ کے ہیں -

رائے راجپوتوں کا شاہی لقب ہے -

راجا بھپت رائے بھٹی نے بھٹنیر شہر کی بنیاد رکھی -

رائے احمد خان کھرل نے پنجاب میں انگریزوں کو کھری ٹکر دی - 

سکھوں کے گرو 8 گرو سمیت ، گوبند رائے کا تعلق سوڈھی راجپوت گھرانے سے تھے - 

گجرات کے راجا رائے زادہ ناو گھن چنڈاسمہ ہوئے جنہوں نے  

چالوکیہ راجپوتوں سے کاٹھیاواڑ فتح کیا تھا -


06 : ٹھاکر

ٹھاکر کے معنی زمیندار کے ہیں -

ٹھاکر لقب راجپوتوں کا شاہی لقب ہے جس کی قدامت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مہابھارت میں شری کرشنا جی کو ٹھاکر صاحب بولا گیا - 

ٹھاکر شیر سنگھ جوئیہ جنگلہ دیش کے ایک طاقتور حکمران تھے -

ٹھاکر ہاشم خان سلہریا نے انگریز فوج میں شمولیت کے بعد افغانوں کے ساتھ جنگ کی اور انہیں ہرایا -

پاکستان میں زیادہ تر سلہریا راجپوت اپنے نام کے ساتھ ٹھاکر لقب استعمال کرتے ہیں جبکہ باقی راجپوت بھی ٹھاکر لقب استعمال کرتے ہیں -


07 : بابو 

بابو بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے جس کے معنی زمیندار کے ہیں -

بہار کے راجپوت بابو لقب کثرت سے استعمال کرتے ہیں - 

بابو کنور ویر سنگھ نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی -


08 : بنہ

بنہ بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے جس کے معنی شہزادہ کے ہیں -

بنہ لقب زیادہ تر راجستھان کے راجپوتوں میں استعمال کیا جاتا ہے - 


09 : حکم 

حکم راجپوتوں کا شاہی لقب ہے جس کے معنی حکمران یا اجازت دینے والا - 

تام چن کی لڑائی میں حکم جام بھان جی جدیجہ نے مغلوں کو شکست دی - 


10 : راج ، مہاراج

لفظ راجا ، مہاراجا کی پرانی قسم راج , مہاراج ہے جن کے معنی ایک جیسے ہیں -

پرتھوی راج چوہان اپنے وقت کے طاقتور حکمران تھے -

ویر گگا جی مہاراج ایسی شخصیت ہیں جنہیں برصغیر کے ہر 

مذہب کا شخص مانتا ہے - 


11 : راجنیہ 

راجپوتوں کے شاہی لقب راجنیہ کے معنی راجا کے بیٹے یا بادشاہ کے ہیں -

مہابھارت کی جنگ لڑنے والے راجنیہ میں ایک ویر برگو راجنیہ تھے جبکہ باقی سب راجپوتوں کو بھی راجنیہ بولا گیا - 


12 : راجن 

راجن کے معنی بھی راجا کے ہیں - 

راجن پور شہر کی بنیاد راجا ویر راجن پال نے رکھی جو کہ سومرو راجپوت تھے جن کے بھائی راجا راجپال سندھ کے حکمران تھے - 


13 : ادھیراج 

ادھیراج شاہی لقب ہے جو کہ راجپوتوں راجا استعمال کرتے رہے ہیں جیسے ادھیراج دھرم پالا بنگال کے طاقتور راجپوت راجا تھے - 


14 : یوراج 

یوراج کے معنی لڑاکا راجا کے ہیں -

یوراج ایشور گوڑ بنگال و آسام کے ایک طاقتور راجپوت راجا تھے - 


15 : سنگھ 

سنگھ بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے -

سنگھ کے معنی لڑاکا کے ہیں - 

سنگھ لقب ہندو راجپوت اور سکھ راجپوت استعمال کرتے ہیں -

رانا اودھے سنگھ نے اودھے پور شہر کی بنیاد رکھی -

راؤ بچھتر سنگھ پنوار ایک سکھ راجپوت تھے جنہوں نے خالصہ فوج میں شمولیت اختیار کی اور کئی جنگیں لڑیں -


16 : سنگھا

سنگھا لقب بھی سنگھ سے نکلا ہے جس کے معنی لڑاکا کے ہیں - 

نیپال کے ایک راجپوت راجا نارائن سنگھا لچھاوی ہوئے تھے جو کہ طاقتور راجپوت راجا تھے - 


17 : رانگھڑ

رانگھڑ ان مسلمان راجپوتوں کو کہا جاتا ہے جو تقسیم ہند سے پہلے آج کے بھارت میں پائے جاتے تھے - 

راؤ سہار روہیلہ رانگھڑ نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی - 


18 : راٹھ

راٹھ ان مسلمان راجپوتوں کو کہا جاتا ہے جو تقسیم ہند سے پہلے آج کے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پائے جاتے تھے - 


19 : باؤ جی راج

باؤ جی راج بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے -

باؤ جی راج کرشن راشٹراکوٹ ایک طاقتور راجپوت راجا تھے - 


20 : خاں

خاں لقب مسلمان راجپوت استعمال کرتے ہیں -


21 : خان

خان کے معنی بادشاہ کے ہیں -

جو ہندو راجپوت مسلمان ہوئے انہوں نے سنگھ کی جگہ خان لقب استعمال کیا - 

رائے بلار خان بھٹی ننکانہ صاحب کے مہاراجا تھے جنہوں نے سکھ مت کے بانی گرو نانک صاحب کو 18 ہزار 750 مربع زمین سکھ مت کو فروغ دینے کے لیے دی -  


22 : خاقان 

خاقان اور خان میں کوئی فرق نہیں سوائے الفاظ کے -

خان موجودہ شکل ہے اس لقب کی جبکہ خاقان پرانا لقب ہے -


23 : خانزادہ

خانزادہ لقب سب سے پہلے میوات کے راجپوتوں نے استعمال کیا -

نوابزادہ راجا حسن خان میواتی نے حملہ آور بابر کے خلاف رانا سانگا کا ساتھ دیا اور بابر مغل سے جنگ کی -  


24 : نواب

نواب سلاطین دہلی کے دور میں ایک عہدہ تھا -

نواب کے اختیارات میں ایک صوبہ ہوا کرتا تھا -

سلاطین دہلی کے زوال کے وقت بنگال کے نواب ، راجا سلمان خان وینس راجپوت تھے - 


25 : نوابزادہ

نوابزادہ راجپوتوں کو ملنے والا خطاب ہے - 

نواب سلمان خان کے بعد بنگال کے نواب ان کے بیٹے نوابزادہ راجا عیسیٰ خان وینس بنے -  

نوابزادہ لقب چوہان راجپوت اور کھوکھر راجپوت بھی استعمال کرتے ہیں - 


26 : میر 

میر راجپوتوں کا بہت پرانا لقب جو کہ جموال راجپوت استعمال کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں , جس کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منہاس راجپوتوں کے جد امجد راجا ملہن ناس کے ایک بیٹے میر واسو دیو تھے جو آج سے 3 ہزار سال پہلے کے راجا تھے -

گلگت بلتستان اور کشمیر میں جموال راجپوت راجا اور میر لقب استعمال کرتے ہیں -   


27 : سردار 

سردار ایک شہر کے حکمران کو کہا جاتا تھا - 

مسلمان راجپوتوں میں چترال کے حکمران مرزا متاع الملک جرال کو بھی سردار کا لقب ملا تھا - 

سکھ راجپوتوں میں سردار کا خطاب سکھ راؤ بجر سنگھ راٹھور کو سب سے پہلے ملا تھا - 

کئی مسلمان راجپوت گوتیں نام کے ساتھ سردار کا خطاب استعمال کرتی ہیں - 


28 : بائیسہ

بائیسہ کے معنی شہزادہ کے ہیں - 

بائیسہ 


29 : لوچن 

لوچن جموال راجپوتوں کا مخصوص لقب تھا جو کہ اب استعمال نہیں کیا جاتا جو کہ افسوس ناک بات ہے جموال راجپوتوں کو اپنے نام کے بعد لوچن بطور لقب استعمال کرنا چاہیے -

کشمیر کا پہلا قلعہ راجا باہو لوچن نے بنوایا جن کے بیٹے راجا جامبو لوچن نے جموں آباد کیا اور ان کی اولاد جموال راجپوت کہلائی - 


30 : کنور 

کنور بھی راجپوتوں کا شاہی لقب ہے - 

کنور کے معنی شہزادہ کے ہیں -

کنور شکتی سنگھ رانا اودھے سنگھ کے بیٹے تھے جو کہ تیر بازی میں ماہر تھے - 


31 : ملک 

دہلی کے سلطان غیاث الدین بلبن کی جانب سے راجپوت راجا شیخا کھوکھر کو ملک کا خطاب دیا گیا -

ملک لقب کھوکھر راجپوتوں کے ساتھ ساتھ باقی راجپوت گوتیں بھی ہلکا پھلکا استعمال کرتے ہیں -

جیسے ملک خضر حیات ٹوانہ ، ملک فیروز خان نون اور ملک فتح خان گھیبہ وغیرہ شامل ہیں - 


32 : میاں 

میاں لقب بھی صرف راجپوتوں کا لقب ہے -

بیرونی حملہ آوروں نے بھی یہ لقب استعمال کیا ہے -

میاں سوار سنگھ چندیل نے 690 عیسوی میں کشمیر کے شہر ادھم پور پہ اپنے والد راجا ہری ہر سنگھ چندیل کے بعد حکومت کی - 




33 : مرزا 

مرزا خطاب دہلی کے بادشاہ شاہ جہاں نے جرال راجپوت راجا نواب خان کو اپنی بیٹی کی شادی کراکر دیا -

مرزا لقب راجا مان سنگھ کشواہا کو اکبر بادشاہ نے افغانستان کو فتح کرنے پہ دیا تھا - 


34 : مہر یا معر

مہر لقب راٹھ راجپوت قبائل کا ہے جن میں زیادہ تر سیال راجپوت استعمال کرتے ہیں -

جھنگ کے نواب ، مہر ولیداد خان سیال نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا -


35 : خواجہ 

خواجہ کا خطاب ایک ولی اللہ نے رائے محمد نور مہاروی کھرل کو عالم دین بننے پہ دیا تھا - 


36 : جام

جام ، جدیجہ راجپوتوں اور سمہ راجپوتوں کا شاہی لقب ہے - 

جام کے معنی راجا یا بادشاہ کے ہیں -

جام نظام الدین سمہ سندھ کے ایک مشہور راجپوت راجا تھے -

گجرات کے 16 سال کے جام ہالا جی جدیجہ نے مغل کمانڈر کا سر اس کے گھوڑے سمیت کاٹ کر اپنی بہادری کا لوہا منوایا -  


37 : کمار ، راجکمار

کمار اور راجکمار ہندو راجپوتوں کا لقب ہے جو کہ بہت کم استعمال کیا جاتا ہے -  


38 : چودھری ، چوہدری

سلاطین دہلی کے دور میں سو سے زیادہ گاؤں کے مالک کو چوہدری یا چودھری کہا جاتا تھا -

سلاطین دہلی کے زوال کے دور میں چنیوٹ کے چودھری ، رائے رحمت خان بھٹی تھے اور چکوال کے چودھری , راجا چاقو خان منہاس تھے - 


39 : ویر ، مہاویر 

ویر کے معنی ہیں لڑاکا -

ویر جسونت سنگھ جرال نے اعوان اور مغلوں کو شکست سے دو چار کیا - 


40 : شاہ 

نیپال کے ہندو راجپوت شاہ خطاب استعمال کرتے ہیں - 

نارو راجپوتوں کو بھی شاہ کا خطاب ملا تھا - 

شاہ کے معنی سردار کے ہیں - 


41 : قاضی 

قاضی بھی سلاطین دہلی کے دور میں ایک عہدہ ہوا کرتا تھا -

پنجاب کے مشہور قاضی ، رائے محمد خان بھٹی تھے جو کہ فیصلے کرنے میں ماہر تھے - 

وہ راجوری میں قاضی مقرر ہوئے تھے ، اب بھی ان کی اولاد وہیں مقیم ہے -  


42 : سلطان

گکھڑ راجپوتوں کو سلطان کا خطاب ہمایوں مغل کی طرف سے ملا تھا۔ 

سارنگ سلطان گکھڑ نے اپنے 16 بیٹوں کے ہمراہ شیر شاہ سوری کے خلاف جنگ کی -  


43 : وڈیرہ

انگریز سرکار کی طرف سے سندھ میں ملنے والا خطاب وڈیرہ کا آغاز شاہ نواز بھٹو راجپوت سے ہوا - 


44 : پال 

پال ویسے تو راجپوتوں کے 36 شاہی خاندانوں میں شامل ایک خاندان ہے - وہ خاندان پال لقب استعمال کرنے کی وجہ سے پال یا پالا راجپوت کہلائے - 

پال بطور لقب کئی راجپوت شاہی خاندانوں نے استعمال کیا جن میں بھٹی ، تومار وغیرہ شامل ہیں - 

راجا اننگ پال تومار نے دہلی شہر کی بنیاد رکھی -


45 : سین 

سین بھی راجپوتوں کے 36 شاہی خاندانوں میں شامل ایک خاندان ہے - 

وہ خاندان سین لقب استعمال کرنے کی وجہ سے سین راجپوت کہلایا - راجا دھرم سین کا تعلق سین راجپوت گھرانے سے تھا جبکہ راجا رام سین کا تعلق چولا راجپوت گھرانے سے تھا -  


46 : شیخ 

جموال راجپوت راجا کا قبول اسلام پہ ایک ولی اللہ نے انہیں شیخ کا خطاب دیتے ہوئے ان کا نام ، راجا شیخ حق جموال رکھا -  


47 : راوت 

راوت بھی راجپوتوں کا لقب ہے -

راوت رتن سنگھ چنڈاوت ، مہا رانا پرتاب سنگھ کے وزیر تھے - 


48 : خان بہادر 

خان بہادر کا خطاب انگریزوں نے لکھے پڑھے زمینداروں کو دیا جن میں خان بہادر ملک عمر حیات ٹوانہ سر فہرست ہیں - 


49 : بہادر رانا

نیپال کے راجپوت بہادر رانا کا لقب استعمال کرتے ہیں -

وکٹوریہ کراس حا کرنے والے ٹھاکر کرن بہادر رانا کا تعلق نیپال کے راجپوت گھرانے سے تھا - 


50 : رناوت 

رناوت بھی راجپوتوں کا لقب ہے کوئی گوت نہیں ہے -

Wednesday, 26 February 2025

About Pakistan

 غالباً ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ڈیپ سٹیٹ ہے 

اسوقت مجھے شدید غصہ آیا تھا پھر جب میں نے اس سٹیٹ کا مطالعہ کیا تو مجھے یہ لفظ بہت چھوٹا سا لگا۔

ارمغان کا باپ پچھلے تیس سال سے سمگلنگ اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں 

اسکا 24 سال کا بیٹا منشیات منی لانڈرنگ عالمی بینک فراڈ اغوا برائے تاوان جعلی شناختی کارڈ اور چھوٹی عمر کی بچیوں کے ریپ میں ملوث ہے لیکن نادرا اور اینجسیاں سو رہی ہیں 

 


اداکار ساجد حسن کا بیٹا کراچی میں منشیات کا ہول سیلر تاجر ہے اہجنسیاں خراٹے لے رہی ہیں 

 چوبیس سالا مصطفے عامر ایک عرصے سے نان کسٹم گاڑیاں اور منشیات کے عالمی دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں (اور اسکا باپ کسٹم کا ایک آفیسر رہا ہے) 

ایران سے ہزاروں بیرل پیٹرول پشاور لاہور کراچی میں پیٹرول پمپوں پر فروخت ہورہا ہے ظاہر ہے ڈھائی سو چیک پوسٹیں کراس کرکے آتا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ منشیات پیٹرول کیسے آتا ہے کیا ارباب اقتدار ارباب اختیار جنرل جج سیاستدانوں کمشنرز بولس افسران کو نہیں معلوم کہ سامان کہاں سے آتا ہے ظاہر ہے انہیں انکا حصہ مل جاتا ہے جو دوبئی میں جائیدادیں بنانے کے کام آتا ہے۔

ارمغان کا باپ اپنے آپ کو ایک ایجنسی کا ایجنٹ کہتا ہے کوئی بولتا کیوں نہیں ۔

کیوں کہ سبھی کانے ہیں 

ایک طوائیف جب پول کھولتی ہے تو وہ ننگی نہیں ہوتی پھر وہ تمام اشرافیہ کو ننگا کرتی ہے

 مصطفے قتل کیس میں ملوث ارمغان کی پیشی کے موقع پر جج بھی نظریں نہیں ملاتا ریمانڈ میں توسیع روک دیتا ہے جیسے ارمغان سے ادھار لے رکھا یو یا بیٹی دے رکھی ہو 

اس دوران اعلا پولیس افسران شوہدات مٹانے میں مصروف رہے 

نجانے کراچی میں ارمغان جیسے کتنےمنشیات اور فراڈ کے ڈیلرز موجود ہیں 

کراچی لاہور اسلاماباد کی سڑکوں پر روزانہ درجنوں ویگوز ستر ستر کروڑ کی نان کسٹم بمب پروو گاڑیاں (جن پر مشکوک پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز بیٹھے نظر اتے ہیں جو سائیرن بجاتی اور چیختی چنگھاڑتی کہ ہٹو بچو ورنہ کچل دیئے جاو گے) اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں 

نتاشا نامی ایک برطانوی لے پالک کتیا جو بنا لائیسنس گاڑی چلا رہی تھی چھ افراد کو کچل ڈالا 

عدالتیں اسکا لام بھی نہیں اکھاڑ سلیں اسکو تو اسلام نے بھی تحفظ دیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکے خلفاء انصاف کرتے تھے پھر وہ عدالت انصاف کے مونہہ پر پیسہ پھینک کر باعزت رہا بھی ہوگئی حالانکہ اگر کسی پاکستانی کے پاس لائیسنس نہ ہو تو اسے روڈ پر سرعام تشدد کیا جاتا ہے 

کراچی کی عوام کے تعصب کا یہ حال ہے کہاگر ڈمپر کسی موٹر سائیکل سوار کو کچل دے تو وہ جلا دیا جاتا ہے 

مگر نتاشا کی گاڑی کو مکمل تحفظ عوام نے دیا بلکہ اسکو ریجنرز نے سامنے مارکیٹ سے لاکر جوس بھی پلایا اور پچکاریان بھی لیں 

اینجسیاں جانتی ہے یا نہیں لیکن عالمی سروے کے مطابق دوبئی کی ستر فیصد اکانومی پاکستانی کرپشن کے پیسے پر کھڑی ہے 

اگر کوئی ایماندار حکومت 

یہ پیسہ مانگ لے 

تو پورا دوبئی واپس 

سندھ کے اس گوٹھ کی مانند ہوجاوے 

جہاں صرف بھٹو زندہ ہے 

مگر سوال یہ ہے کہ پیسہ کون واپس لائے 

جرنیل ؟؟؟ جن کے اپنے بچے دوبئی میں بیٹھے ہیں جہاں انکے اپنے اکاونٹس ہیں یا امریکہ میں پیزوں کی دوکانیں ہیں 

سیاست دان ؟؟؟

بیورو کریٹس ؟؟؟

اعلا پولیس حکام ؟؟؟

ججز ؟؟؟

اسٹلشمنٹ ؟؟؟

تاریخ میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک عورت کو زنا کے جرم میں سنگسار کرنے کی سزا ہوئی 

عورت کو باندھ دیا گیا 

لوگوں نے اسکو مارنے کے لئے پتھر اٹھا لئے 

اس عورت نے چیخ کر کہا 

مجھے پہلا پتھر وہ مارے جس نے زنا نہ کیا ہو 

اب سوال یہ ہے کہ دوبئی سے پیسہ کون واپس لائے گا ؟؟؟

یہاں تو سبھی چور اچکے ہیں 

ڈاکو ہیں 

رہزن ہیں 

بس لیب ٹاپ آٹا چینی اور بے نظیر انکم سکیم کے تحت چند ہزار بانٹنے جاو 

مگر شعور مت دینا 

کیونکہ شعور مل گیا تو عوام کی یہ جو دو ✌🏻 ہیں ان کے ذریعے ان حرامیوں کے حلق سے اپنا پیسہ نکال لے گی 

لیکن خوش ائیند بات ہے کہ تمہاری اگلی کئی نسلیں دوبئی امریکہ سوئیٹزلیینڈ میں مزید عیاشیاں کرسکتے ہیں کیونکہ ابھی اس قوم میں شعور آنے میں کافی صدیاں باقی ہیں ۔منقول


Saturday, 8 June 2024

Weapon knowledge


میری بڑی خواہش تھی کہ ایک پوسٹ Weapon کے Basic بارے میں بھی کی جاۓ۔ تاکہ عام آدمی کو بھی ہھتیاروں کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کی جاسکے۔ اس پوسٹ کے لیے میں نے بڑی محنت کی ہے یقیناناً آپکو پسند آۓ گی۔


اس وقت دنیا میں جتنے بھی ہتھیاروں سے فاٸرنگ کی جاتی ہیں ان سب کو Gun کہتے ہیں اور اردو میں اسکو بندوق کہتے ہیں۔


 ان گن میں جو گولیاں استعمال ہوتی ہیں انکو Bullet یا Round یا Cartrridge کے نام سے پکارتے ہیں لیکن ان میں بھی فرق ہوتا ہیں۔ ان گولیوں میں بارود یعنی جسکو Ammunition بھی کہتے ہیں انکو ایکShell جسکو خول یا کیسنگ بھی کہتے ہیں اس میں بھرا جاتا ہے اور فاٸرنگ کی صورت میں یہی بارود آپکی مطلوبہ ٹارگٹ کو ہٹ کرتی ہے۔اور گولی کا Shell یعنی خول گن کے Ejacter کے زریعے داٸیں طرف نکل جاتا ہے۔


وہ گولی جسکے Shell یعنی خول میں Ammunition یعنی بارود شامل ہوں۔ یعنی وہ گولی جو Shell اور Ammunition دونوں پر مشتمل ہوں اسکو انگلش میں Round اور اردو میں اسکو مکمل گولی کہتے ہے۔ یعنی وہ گولی جو Shell اور Bullet دونوں پر مشتمل ہوں۔ یہ Round پیتل کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ یہ Round ہینڈ گن اور راٸفل میں استعمال کی جاتی ہے۔


وہ گولی یا وہ بارود یا وہ Ammunition جو Shell کے اندر لگی ہو اسکو انگلش میں Bullet اور اردو میں اسکو گولی کہاں جاتا ہے۔ 


وہ گولی جسکے Shell میں بارود کی شکل چھوٹے چھوٹے چرے ہو اسکو انگلش میں Cartridge اور اردو میں اسکو کارتوس کہتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے چرے ایک بڑے ساٸز کے کارتوس کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔ کارتوس کا Shell یعنی خول زیادہ تر پلاسٹک کا بنایا جاتا ہے۔ کارتوس صرف شاٹ گن میں استعمال ہوتی ہے۔


جس کمپنی کا گن ہو تو اسی کمپنی کی گولیاں استعمال کرنی چاہیے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ تو ایمپورٹڈ گن خریدتے ہیں لیکن گولی وہ مقامی طور بناٸ گٸ استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ کافی سستی ہوتی ہیں لیکن اس سے آپکی گن بہت ڈیمیج ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اگر آپکی گن پاکستان کی بنی ہے تو اسمیں کبھی بھی ایمپورٹڈ گولی کا استعمال نہ کرے خاص طور پر برسٹ کی صورت میں۔ برسٹ اسکو بولتے ہیں جب تک آپکی انگلی ٹریگر پر رہتی ہے گن سے گولیاں نکلتی رہتی ہیں۔ کیونکہ فاٸرنگ کی صورت میں وہ جھٹکا لیتی ہے جسکی وجہ سے بیرل کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے اور وہ پھٹ جاتا ہے جو کہ جان لیوہ ثابت ہوتا ہے۔ لہزا اس سے اجتناب کرے۔ چاٸنہ کی 311 نمبر کی گولی خریدنی چاہیے۔ کیونکہ یہ گولی نرم ہوتی ہے اور فاٸرنگ کی صورت میں جب یہ بیرل سے نکلتی ہے تو یہ بیرل کو Damage نہیں کرتی۔ دوسری بات جب اسی فاٸرشدہ گولی کو دوبارہ بیرل کے اندر سے گزارنا چاہے تو یہ نہیں گزرے گی اور یہی اس گولی کی اصل ہونے کا ثبوت ہی۔ اس کے علاوہ جو یہاں کی بنی گولیاں ہوتی ہیں وہ کافی سخت ہوتی ہیں اور جب یہ فاٸرنگ کی صورت میں بیرل سے باہر نکلتی ہیں تو یہ بیرل کو Damage کرتی ہیں۔ دوسری بات جب اس فاٸر شدہ گولی کو دوبارہ بیرل کے اندر سے گزارنا چاہے تو یہ بیرل کے اندر چلی جاٸ گی اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گولی دو نمبر کی بنی ہوٸ ہے۔   

 

 کسی بھی گن کا دارومدار اسکی نالی یعنی بیرل پر ہوتا ہے کیونکہ گولی بیرل سے گزرتی ہے اور جب بیرل اوریجنل ہونگا تو آپکا گن درست کام کرے گی اور ایسی گن زنگ نہیں پکڑتی۔ اگر بیرل اوریجنل نہیں ہونگا تو پھر اسکے پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے اور ایسی بیرل بہت جلد زنگ پکڑتی ہیں۔ وہ بیرل اچھی ہوتی ہے جسکی نالی کے اندر کروم میٹل کی تہہ چڑھاٸ گٸ ہو کیونکہ جب گن سے فاٸرنگ کرتے ہیں تو کروم میٹل بندوق کی نالی کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور اسکو زنگ پکڑنے سے محفوظ رکھتی ہیں۔ 


دنیا کے کسی بھی گن کے Barrel کے انرونی ساٸز کو یا اسکے Diameter کو یا اسکے قطر کو یا اسکے گولاٸ کو اس گن کا Bore کہتے ہیں۔ Bore کی پیماٸش انچز اور ملی میٹر میں کی جاتی ہیں۔ اگر Bore کو انچ میں ناپا جاۓ تو اسکے ساتھ Caliberکا لفظ استعمال کرتے ہیں او اگر Bore کو ملی میٹر میں ناپا جاۓ تو اسکے ساتھ MM کالفظ استعمال کرتے ہیں


اسی طرح دنیا کے کسی بھی گن کے بلٹ کے بیرونی ساٸز کو یا اسکے Diameter کو یا اسکے قطر کو یا اسکے گولاٸ کو اس بلٹ کا Bore کہا جاتا ہے۔ اسکی پیماٸش انچز اور ملی میٹر میں کی جاتی ہیں۔ اگر اسکو انچ میں ناپا جاۓ تو اسکے ساتھ Caliberکا لفظ استعمال کرتے ہیں او اگراسکو ملی میٹر میں ناپا جاۓ تو اسکے ساتھ MM کالفظ استعمال کرتے ہیں۔

.30 bore=7.62mm

.30 bore= .30 of an inch

9mm=.355 bore

اگر MM کو Caliber یعنی انچز میں تبدیل کرنا ہوں تو اسکو 25.4 سے divide کرینگے۔ جیسے

9mm÷25.4=.355 caliber


اسی طرح اگر Caliber یعنی انچز کو MM میں تبدیل کرنا ہوں تو اسکو 25.4 سے Multiply کرینگے۔ جیسے

.355caliber×25.4=9mm


پاکستان میں مقامی طور پر تیار کی گٸ گنیں عموماً ہاتھ سے بناٸ جاتی ہیں اس وجہ سے انکی Finishing بہت اچھی نہیں ہوتی۔ یہ وزن میں بھاری ہوتی ہیں۔ بعض اوقات فاٸرنگ کرتے وقت انکے بیرل میں گولی پھنس جاتی ہیں یعنی دھوکہ دے جاتی ہیں۔ انکے بیرل پر کسی قسم کی کروم میٹل کی دھات نہیں چڑھاٸ جاتی اس وجہ سے فاٸرنگ کرتے وقت اسکا بیرل بہت گرم رہتا ہے اور بعض اوقات پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جتنی بھی گنیں مقامی طور پر بناٸ جاتی ہیں اسکا رنگ ضرور اترے گا۔ جبکہ جو گنیں باہر سے ایمپورٹ ہوکے آتی ہیں وہ تمام گنیں مشینوں سے بناٸ جاتی ہیں اس وجہ سے انکی Finishing بہت اچھی ہوتی ہے۔ یہ وزن میں میں بھی ہلکے ہوتے ہیں۔ فاٸرنگ کرتے وقت یہ کوٸ دھوکہ دیتی۔ انکے بیرل میں کروم دھات کی تہہ چڑھاٸ جاتی ہیں جس سے بیرل ٹھنڈا رہتا ہے اور بیرل پھٹنے کا کوٸ خدشہ نہیں رہتا۔ اوریجنل گن کا رنگ کبھی بھی نہیں اترتا ہاں رنگ کچھ مدھم پڑ جاتا ہے۔


گن کی تین اقسام ہوتی ہیں

1- Handgun

2-Shotgun

3-Rifile

                               Handgun -1

 وہ Gun جسکی Barrel یعنی نالی چھوٹی ہو او اسکو ایک ہاتھ سے چلایا جاۓ اور اسکو چلانے کے لیے آپکو Shoulder کی ضرورت نہیں پڑے اسکو Handgun یا پسٹل کہا جاتا ہے۔ اور اردو میں اسکو پستول کہا جاتا ہے۔ ہم Handgun کو تو Gun کہہ سکتے ہیں لیکن Gun کو Handgun نہیں کہہ سکتے۔ ہینڈ گن میں گولی ہمیشہ گھوم کے بیرل سے باہر نکلتی ہیں۔ ہینڈ گن کو آپ بآسانی ہر جگہ اور چھپکے سے بھی لیکر جاسکتے ہیں۔ شادیوں اور دیگر خوشی کے مواقع پر اسی ہتھیار سے ہواٸ فاٸرنگ کی جاتی ہیں جو کہ جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ جب اسکو چلانا ہوں تو سب سے پہلے اس کے میگزین میں گولیاں ڈالی جاتی ہیں۔ پھر میگزین کو پسٹل میں ڈالا جاتا ہے پھر اسکے پیچھے لگے ہوۓ Hammer یعنی گوڑے کو پیچھے کھینچا جاتا ہے پھر چیمبر کو پیچھے کینچ کر چھوڑ دیا جاتا ہے پھر ٹریگر کو دبایا جاتا ہے اور گن میں لگی فاٸرنگ پن گولی کے پراٸمر یعنی گولی کے مرکز یعنی گولی کے درمیانی حصے کو ہٹ کر کے گولی بندوق کی Barrel یعنی نالی سے باہر نکلتی ہے اور آپکے مطلوبہ ہدف کو ہٹ کرتی ہے۔ اور گولی کا Shell یعنی خول گن کے Ejacter کے زریعے داٸیں طرف نکل جاتا ہے۔ اگر پسٹل کی آواز کو 80 فیصد کم کرنا ہو تو سب سے پہلے اس پسٹل سے اسکے اپنے بیرل کو نکالا جاتا ہے پھر اسکی جگہ دوسرے بیرل کو لگایا جاتا ہے یہ اصلی بیرل سے کچھ لمبا ہوتا ہے اور اسکے سرے پر چوڑیاں ہوتی ہے پھر اس بیرل کے چوڑیوں پر Silencer لگایا جاتا ہے۔ اور اس طرح اس پسٹل سے فاٸرنگ کی آواز 80 فیصد کم ہوجاتی ہے۔ ہینڈ گن کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ 


                TT 30 Bore Pistol-A

یہ روسی ساختہ ہے اسکا اصلی نام Tula Tokarev ہے۔ اسکے میگزین میں 6 یا 7 گولیاں آتی ہیں۔ اس گن میں کوٸ سیفٹی لاک نہیں ہوتا اور گولی چل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ استعمال کا طریقہ سب سے آسان ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ اسی پسٹل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی طورپر تیار کی گٸ ان گن میں اب 15 شاٹ کی میگزین بھی آ گٸ ہے۔ آجکل چاٸنہ Norinco کمپنی کی اچھی پسٹل آتی ہیں۔ اسکی گولی خاصی حد تک دور جاتی ہے اور ٹارگٹ کو صحیح ہٹ کرتی ہے۔ مقامی طورجو اوریجنل پسٹل بناٸ جاتی ہیں ان میں یہ لوگ Ak47 Rifile کی خراب راٸفل کے بیرل کو کاٹ کر اسکی پسٹل بناتے ہیں یعنی یہاں کے کاریگر Ak47 Rifile کے بیرل کوتین جگہوں سے کاٹ کر اسکے الگ الگ تین بیرل یعنی تین پسٹل بناتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہاں بیرل گاڑی کے ایکسل سے بھی بناۓ جاتے ہیں جو بیرل کی سب سے اچھی کوالٹی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں کے کاریگرلوہے کا ایک پیس لیکر اسمیں سوراخ کرتے ہیں یعنی اس سے بیرل بناتے ہیں اور اوپر سے اس لویے کے پیس کو گول بنا کر بیرل تیار کیا جاتا ہے جو بیرل کی سب سے گھٹیا قسم ہوتی ہیں۔


                          9MM Pistol -B

آجکل اس پسٹل کی مقبولیت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ اسکے میگزین میں 15 گولیاں آتی ہیں۔ اسمیں سیفٹی لاک موجود ہوتا ہے اور گولی چل جانے کا اندیشہ نہں ہوتا۔ استمال کا طریقہ سیفٹی لاک ہونے کی وجہ سے تھوڑا مشکل ہیں۔ یہ Tt 30 Bore pistol سے مہنگا ہوتا ہے۔ اسکی گولی تیس بور پسٹل کے مقابلے میں زیادہ دور تک نہیں جاتی۔ اسکی گولی کی 30 بور پسٹل سے موٹا ہوتا ہے اور لمباٸ میں بھی کم ہوتی ہے۔ یہ قریب کے ہدف کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ آجکل ٹارگٹ کیلنگ کے واقعات اس پسٹل سے بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔


                               Revolver -C

اس گن کا استعمال اب ختم ہوگیا ہے۔ پرانے زمانے میں اسکا استعمال بہت زیادہ تھا۔ اور یہ دنیا کی پہلی گن تھی۔ اس میں گولیاں Cylinder یعنی گراری کی شکل میں چیمبر میں ڈالی جاتی ہیں۔ 


                                 Mauser -D

یہ جرمن ساختہ پسٹل ہے۔ اسکو لوڈ کرنے کا طریقہ راٸفل جیسا ہوتا ہے۔ یعنی راٸفل کی طرح بولٹ ہوتا ہے اور بولٹ کو پیچھے کھینچ کر اسکو لوڈ کیا جاتا ہے۔ باقی یہ پسٹل کی طرح کام کرتی ہے۔


                                Shotgun -2

وہ بندوق جسکو چلانے کے لیے آپکو اپنے دونوں ہاتھ استعمال کرنے پڑے اور آپکو Shoulder کی بھی ضرورت پڑے اور اس بندوق کی بیرل بھی لمبی ہوں تو ایسے گن کو شاٹ گن کہتے ہیں اور اردو میں اسکو بندوق کہتے ہیں۔ شاٹ گن کو ہم گن کہہ سکتے ہیں لیکن گن کو ہم شاٹ گن نہیں کہہ سکتے۔ اس میں گولی ہینڈ گن کی طرح گھوم کے بیرل سے باہر نہیں نکلتی بلکہ براہ راست بیرل سے باہر نکلتی ہیں۔ اس بندوق کی گولیاں جسامت میں ہینڈ گن اور راٸفل سے بڑی اور بھاری ہوتی ہیں۔ یہ بھی زیادہ تر سیلف ڈیفینس کے لیے استعمال کی جاتی ہیں لیکن اس کو نشانہ بازی، پرندوں اور جانوروں کے شکار میں اور غباروں کو مارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں چونکہ میگزین نہٕں ہوتا اس لیے گولی کو بندوق کے چمبر میں ڈالی جاتی ہے اور وہ گولی بندوق کے بیرل سے ہوتے ہوۓ اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کو ہٹ کرتی ہے۔ جب اس سے فاٸر کرنا ہو تو اسکے چیمبر کو بار بار لوڈ کرنا ہڑتا ہے۔ یعنی یہ سنگل شوٹر گن کہلاتی ہے۔ اس گن کی مشہور قسم 12 bore repeator کہلاتی ہے۔ پاکستان کے جتنے بھی Private سیکوریٹی ادارے ہے ان سب کے پاس یہ گن استعمال ہوتی ہے۔


                                      Rifile -3

وہ گن یا بندوق جسکو چلانے کے لیے آپکو اپنے دونوں ہاتھ استعمال کرنے پڑے اور آپکو Shoulder کی بھی ضرورت پڑے اور اس گن کی بیرل بھی لمبی ہوں تو ایسے گن کو راٸفل کہتے ہیں۔ حرف عام میں اسکو کلانشیکوف بھی کہتے ہیں۔ Rifile کو ہم Gun کہہ سکتے ہیں لیکن Gun کو ہم Rifile نہیں کہہ سکتے۔ ہینڈ گن کی طرح راٸفل میں بھی گولی گھوم کے بیرل سے باہر نکلتی ہیں۔ راٸفل شاٹ گن سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کہ شاٹ گن میں میگزین نہیں ہوتا جبکہ دنیا کے ہر راٸفل میں میگزین لازمی ہوتا ہے۔ یہ خودکار ہتھیار کہلاتے ہیں۔ جب اس سے فاٸر کرنا ہو تو اسکے چیمبر کو صرف ایک بار لوڈ کیا جاتا ہے پھر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ سنگل شوٹر کی شکل میں یعنی ٹریگر کو بار بار دبانے سے فاٸر کرتے ہیں یا برسٹ کی شکل میں یعنی ٹریگر کو دبانے سے تمام گولیاں باہر نکالتے ہیں۔ راٸفل دور کی ٹارگٹ کے لیے یوز ہوتی ہےاور بہت گہراٸ میں جاتی ہے۔ یہ ہتھیارقانون نافز کرنے والے اداروں کے پاس خصوصاً پولیس والوں کے پاس ہوتے ہے۔ یہ ہینڈ گن اور شاٹ گن کے مقابلے میں بہت زیادہ نقصان کرتی ہے اور اسکی گولی بھی ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ دور تک جاتی ہےAk47, Machine gun, SubMachine gun, Lightmachine gun اور اسنیپر راٸفل ہیں

اسکی اقسام میں روسی ساختہ Ak47 سب سے مشہور راٸفل ہے اسکو Automatic Kalashnikov کہا جاتا ہے۔ یہ 1947 میں بنی۔ پاکستان اور چاٸنہ میں اسکو سب مشین گن بھی کہتے ہیں۔ اس راٸفل کو پانی میں بھی یوز کیا جاتا ہے۔ اسامہ بن لادم کا یہ پسندیدہ ہتھیار تھا۔ دنیا میں سب سے زیادہ اموات اسی بندوق کی وجہ سے ہوٸ ہے۔ اسکا شمار ممنوعہ بور میں ہوتا ہے۔ عام آدمی کے لیے اسکا License ممنوع ہے۔ اسکے چلانے کا طریقہ سب سے آسان ہے۔اسکو زیادہ صفاٸ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اسکو بآسانی کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ یہ فاٸرنگ کے لیے 10 سیکنڈ میں تیار ہو جاتی ہے۔ اسمیں تین طرح کا لوک یوز ہوتا ہے۔ لوک کو اوپر کرے تو یہ نہیں چلتی۔ درمیان میں کرے تو اس سے پوری گولیاں نکلتی یے یعنی پورا برسٹ نکلتا ہے اور یہ اس حالت میں فل آٹومیٹک ہوتی ہے۔ اور نیچے کرے تو ایک ایک گولی فاٸر یوتی ہے یعنی سیمی آٹو میٹک ہوتی ہے۔ اسکے میگزین میں کم از کم 30 گولیاں آتی ہیں زیادہ کی کوٸ قید نہیں۔ یہ پولیس وغیرہ کے استعمال ہوتی ہے۔

ایک راٸفل جسکو .22 یعنی پوینٹ ٹوٹوکہاں جاتا ہے یہ بھی Ak47 کی طرح ہوتی ہے لیکن اسکی بیرل یعنی نالی Ak47 سے چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ وزن اور ساٸز میں Ak47 سے ہلکے ہوتے ہیں۔ باقی ان دونوں کا ایک ہی فنکشن ہوتا ہے۔

ایک اور راٸفل جسکو G3 Rifile کہتےہیں یہ جرمن ساختہ ہے۔ یہ Nato کی افواج کی پسندیدہ ہھتیار ہے۔ یہ راٸفل پاکستان میں رینجر اور افواج پاکستان کے زیر استعمال میں ہیں۔ اس طرح Sniper Rifle جو آجکل دینا کی سب سے مقبول اور مہنگی راٸفل ہے۔ یہ زیادہ تر جنگوں میں استعمال کی جاتی ہیں کیونکہ اسکی گولی بہت دور تک جاتی ہے اور بہت زیادہ نقصان کرتی ہے۔ اسکو چلانے کے بہت مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسمیں ایک دوربین بھی نصب ہوتی ہے جو اہداف کو بالکل درست ہٹ کرتی ہیں۔

کچھ مختلف ممالک کے برینڈ کے نام یہ ہیں۔

Norinco= china


Zastava, Skorpion= Serbia


Bikal= Russia


Zingana, Grisan, Stoeger, Sarsilmaz, Kanuni, Canik= Turkey


Taurus= Brazil


Daewoo= Korea


Smith & wesson sigma (nib), Colt, Ruger= USA


Beretta= Italy


Glock= Austria


Heckler & Kock (H&K), Walther= Germany


Lama= Spain

Wednesday, 5 June 2024

Legal notice

 اگر کوئی شخص آپ کو یا آپ کے کاروبار کو بدنام کر رہا ہے تو کیا کیا جائے؟


 ایک بات یاد رکھیں کہ کسی کو بدنام کرنا ذاتی رنجش کی بنا پر، کسی کی برائی بیان کرنا لوگوں کے سامنے جو کے اس میں نہیں تھی یا کسی کے کاروبار کو بدنام کرنا جس سے اس کے بزنس کو نقصان پہنچے ایسا فعل اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق قابل گرفت ہے. اس فعل کو انگریزی اور قانون کی زبان میں Defamation کہتے ہیں۔ کوئی شخص آپکو آپکے گھر خاندان یا کاروبار کی بدنامی کر رہا ہے تو کیا کیا جائے؟


اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو آپ ایسے شخص کے خلاف کریمنل کارروائی کرواسکتے ہیں ساتھ ہی سول کاروائی کرتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔


کریمنل کارروائی کیسے کی جائے؟


تعزیرات پاکستان کی دفعہ 499 سے لیکر 502 تک defamation کو ڈیل کرتے ہیں۔آپ پولیس میں ایسے شخص کے خلاف FIR کروا سکتے ہیں جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس شخص کو 2 سال تک قید کی سزا اور جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔


دیوانی یا سول کارروائی کیسے کروائی جائے؟


جو شخص بدنامی کا باعث بن رہا ہے آپ اس کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں ساتھ ہی ہرجانہ کی ڈیمانڈ کر سکتے ہیں. گورنمنٹ نے سائلین کو فوری انصاف پہچانے کے لیے Defamation Ordinance 2002

متعارف کروایا جس کے تحت متاثرہ شخص سیشن کورٹ میں ڈائریکٹ ہتک عزت کا کیس دائر کرسکتا ہے. اس آرڈیننس کے تحت کیس کرنے سے پہلے متاثرہ شخص اس شخص کو لیگل نوٹس بھیجے گا دو مہینے کے اندر جب اس کی بدنامی کی گئی اس وقت سے. لیگل نوٹس کے بعد 14 دن کے اندر وہ شخص معافی نہیں مانگتا یا ہرجانہ نہیں دیتا تو متاثرہ فریق Defamation Ordinance 2002

کے تحت سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے. وہ اس دعویٰ میں بتائے گا کے اس کا کتنا نقصان ہوا بالفرض ایک شخص کسی کے کاروبار کی بدنامی کرتا ہے اگر اس کے کاروبار کا نقصان ہوا ہے اور وہ کاروبار اس بدنامی سے بند ہوگیا تو وہ دعویٰ میں بتائے گا اس کا کاروبار بند ہوگیا اسے اتنے لاکھ کا نقصان ہوا جتنے لاکھ کا نقصان ہوا اس حساب سے کورٹ فیس ادا کرے گا. 2 لاکھ سے اوپر جتنا بھی نقصان ہوا اسکی کورٹ فیس 15 ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی. سیشن کورٹ میں دعویٰ دائر کرنے کے سیشن کورٹ 3 مہینے کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کی پاپند ہے۔ اگر آپ نے اپنا کیس عدالت میں ثابت کردیا تو عدالت اس شخص سے آپکے نقصان کا ازالہ کروا کر دے گی.


جھوٹی ایف آئی آر کروائی جس سے ساکھ کو نقصان پہنچا کیا کیا جائے؟


جھوٹی ایف آئی آر کروانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت جرم ہے. 

پولیس پاپند ہے جھوٹی ایف آئی آر کروانے شخص کے خلاف دفعہ 182 کے تحت کاروائی کرے



مرے ہوئے شخص کو بدنام کرنا؟


مرے ہوئے شخص کو بدنام کرنا بھی جرم ہے جس مرحوم شخص کے لواحقین اس شخص کے خلاف کیس کرسکتے ہیں


کن صورتوں میں بدنامی کرنے پر بھی کاروائی نہیں ہوگی؟


اگر کوئی اچھی نیت رکھ کر کسی کی برائی بیان کرے تاکہ دوسرے شخص اس کے شر سے محفوظ رہیں تو یہ جرم نہیں ہوگا مثال کے طور پر ایک شخص لوگوں سے فراڈ کرتا ہے یا چوری کرتا ہے ایسے شخص کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کرنا جرم نہیں۔ کسی میڈیکل سٹور کی میڈیسن جعلی ہیں یا کسی ہوٹل کا کھانا اچھا نہیں اور آپ لوگوں کو نیک نیتی کے تحت بتاتے ہیں تو یہ جرم نہیں ہوگا۔....

Monday, 27 May 2024

Public holiday tomorrow 28/05/2024 order

 Deceleration of Public Holiday on the Occasion of Youm-e-Takbeer In modification of Cabinet Division's circular No. 10-02/2023-Min-II dated 20th December, 2023 regarding public and optional holidays for the year 2024, the Prime Minister has been pleased to declare 28th May 2024 (Youm-e-Takbeer) as a public holiday throughout the country



Sunday, 26 May 2024

5 bonus in single fiscal year

 The Election Commission of Pakistan (ECP) decided to give three salaries as bonus to its officers and employees.


According to letters dispatched to the provincial election commissioners, the ECP has informed that employees and officers will get three basic salaries as bonus.



Those who are facing departmental inquiries and moved to services tribunals or judiciary will not be eligible for the bonus, the ECP letter stated.


The ECP has already given two salary bonuses to its employees in March after conducting the general elections in February.


As per rules of the finance ministry, no institution is allowed to give five bonuses to its staff in a single fiscal year.


Following the general elections on February 8, CEC Sikandar Sultan Raja lauded the services of the body’s staff, law enforcement agencies and the local administration on the peaceful conduct of the polls that ensured smooth transfer of powers from the caretakers to the elected government.

Friday, 24 May 2024

161 statement

 Witness mentioned in FIR but whose statement is not recorded under section 161, Cr.P.C.---Whether such witness could be examined under section 256-F or section 540, Cr.P.C. and his evidence relied upon---Held, that perusal of section 265-F, Cr.P.C. shows that nowhere in the said section it is mentioned that only those witnesses could be examined whose statements under section 161, Cr.P.C. have been recorded---Under section 265-F, Cr.P.C. the Trial Court is not bound to record the statements of only those witnesses who have been listed in the calendar of witnesses---Furthermore there is no bar that a witness, whose statement under section 161, Cr.P.C. had not been recorded at the time of investigation, cannot be allowed to be examined under section 540, Cr.P.C.---When a witness is examined in Court, whose statement has not been recorded at the time of investigation under section 161, Cr.P.C., the evidentiary value to be attached to the evidence of such witness has to be looked into and if it is found that prejudice has been caused to the accused then the evidence of such witness may or may not be acted upon.


       To arrive at a just conclusion, the courts can call any person likely to be acquainted with the facts of the case after ascertaining it from the Public Prosecutor or the complainant, subject to general provisions that summoning of any such witness does not cause delay or defeat the ends of justice. Section 265-F(2) of Cr.P.C empowers the Courts to summon a person, after having been ascertained from the Public Prosecutor or the complainant, who is likely to be acquainted with the facts of the case, to be able to give evidence for the prosecution. Section 265-F(7), Cr.P.C grants even to the accused a right to apply for summoning any witness and production of documents. The very purpose of section 265-F, Cr.P.C is to ensure the concept of a fair trial and to achieve this purpose equal opportunity has been given to both the accused and the prosecution for summoning the evidence. It is nowhere mentioned in this section that only those witnesses could be examined whose statements under section 161, Cr.P.C. have been recorded. Under this provision of law i.e. section 265-F, Cr.P.C the Trial Court is not bound to record the statements of only those witnesses who have been listed in the calendar of witnesses.


       On the other hand, section 540, Cr.P.C. empowers the Trial Court to summon a material witness even if his name did not appear in the column of witnesses, provided his evidence is deemed essential for the just and proper decision of the case. Section 540 is divisible in two parts. In the first part, discretion is given to the Court and enables it at any stage of an inquiry, trial or other proceedings under the Code, (a) to summon anyone as a witness, or (b) to examine any person present in the Court, or (c) to recall and re-examine any person whose evidence had already been recorded. On the other hand, the second part appears to be mandatory and requires the Court to take any of the steps mentioned above if the new evidence appears to be essential to the just decision of the case. The object of the provision, as a whole, is to do justice not only from the point of view of the accused and the prosecution but also justice from the point of view of the society. The Court examines evidence under this section neither to help the prosecution nor to help the accused. It is done neither to fill up any gaps in the prosecution evidence nor to give it any unfair advantage against the accused. Fundamental thing to be seen is whether the Court considers this evidence necessary in the facts and circumstances of the particular case before it. If this results in only "filling of lacuna" that is purely a subsidiary factor and cannot be taken into consideration. There is no bar that a witness, whose statement under section 161, Cr.P.C. had not been recorded at the time of investigation, cannot be allowed to be examined under section 540, Cr.P.C. When a witness is examined in Court, whose statement has not been recorded at the time of investigation under section 161, Cr.P.C., the evidentiary value to be attached to the evidence of such witness has to be looked into and if it is found that prejudice has been caused to the accused then the evidence of such witness may or may not be acted upon.


----Concept of 'rigor mortis' and factors affecting the same explained.


       The phrase rigor mortis is latin with rigor meaning stiffness and mortis meaning death. Rigor mortis is a temporary condition. Depending on body temperature and other conditions, rigor mortis lasts proximately for 72 hours. The phenomenon is caused by the skeletal muscles partially contracting. The muscles are unable to relax, so the joints become fixed in place. Factors that affect rigor mortis include (i) temperature/weather, (ii) physical exertion, (iii) age, (iv) body fat, (v) any illness the person had at the time of death, (vi) sun exposure, (vii) gender, (viii) body structure, (ix) genetics, (x) tribe and (xi) inhabitation.


Appellant Sajid Mehmood along with three co-accused was tried by the learned Sessions Judge, Jhelum in terms of the case registered vide FIR No. 13 dated 16.01.2014 under sections 302/34, P.P.C. at Police Station Civil Line, District Jhelum, for committing murder of Azeem Ahmed, brother of the complainant. The learned Trial Court vide its judgment dated 23.06.2015 while acquitting the co-accused, convicted appellant Sajid Mehmood under section 302(b), P.P.C. and sentenced him to death. He was also directed to pay compensation amounting to Rs.500,000/- to the legal heirs of the deceased. In case of non-payment of the compensation, the same was ordered to be recovered as arrears of land revenue and the appellant was to suffer SI for six months. In appeal the learned High Court while maintaining the conviction of the appellant under section 302(b), P.P.C., altered the sentence of death into imprisonment for life. The amount of compensation and the mode of recovery thereof was maintained. Benefit of section 382-B, Cr.P.C. was also extended to the appellant. Being aggrieved by the impugned judgment, the appellant filed Jail Petition No. 160/2018 wherein leave was granted by this Court on 02.06.2020 and the present appeal has arisen out of the same.


2. The prosecution story as given in the impugned judgment reads as under:-


       "2. The brief facts of the case as unfolded in the FIR, recorded on the statement of Jameel Hussain, complainant (PW-10) are that on 16.01.2014, he (complainant) along with his father Karamat Hussain, PW and his brother Zameer Ahmad was present outside the gate of his house for participating in Milad Sharif in the mosque, when at about 8.30 p.m. Azeem Ahmed, deceased (brother of complainant) came there on his white coloured cultus car bearing registration No. LW/9991 from city side. Azeem Ahmad (deceased) parked his car in front of his house and as soon as he alighted from his car, accused persons namely Sajid Mehmood alias Saja, Aurangzeb alias Ranga, Abdul Samad all armed with the pistol 30 bore respectively also arrived thereon white colour car being driven by Shahid alias Sando, the accused Aurangzeb alias Rangha raised a lalkara and consequently Sajid Mehmood alias Saja made a straight fire shot of his pistol targeting left thigh of Azeem Ahmad. On receipt of this pistol's fire Azeem Ahmad fell down on the ground and succumbed to his injuries on the spot and accused persons on their car vanished from the place of occurrence. The occurrence was witnessed by complainant, Zameer Hussain (PW-1) and Karamat Hussain (since given up).


       The motive behind the occurrence was that on the previous night of the occurrence, the accused persons had got set on fire the Haveli of the complainant party and falsely involved Junaid and others in the occurrence; the respectable of the locality had patched up that matter between the complainant party and Junaid and others; due to this grudge, the accused committed the murder of complainant's brother. Hence, the crime report."


3. After completion of the investigation, report under section 173, Cr.P.C. was submitted before the Trial Court. The prosecution in order to prove its case produced 13 witnesses. In his statement recorded under section 342, Cr.P.C. the appellant pleaded his innocence and refuted all the allegations levelled against him. However, he did not make his statement on oath under section 340(2), Cr.P.C. in disproof of allegations levelled against him. He also did not produce any evidence in his defence.


4. Learned counsel for the appellant contended that it was an un-witnessed occurrence and the whole prosecution case is concocted one. Contends that even there are glaring contradictions and dishonest improvements in the statements of the eye-witnesses, which have escaped the notice of the learned courts below. Contends that the complainant was brother of the deceased, therefore, his testimony cannot be believed to sustain the conviction of the appellant. Contends that there is conflict between medical and ocular account. Contends that the postmortem examination was conducted after two hours of the occurrence and in such a short span of time, the rigor mortis could not develop as such contradicted time of occurrence. Contends that according to prosecution witnesses, the dead body of the deceased was brought to the hospital in car whereas according to Dr. Saeed Anwar (PW-7), the dead body was brought by Rescue 1122, which speaks volumes on the conduct of the prosecution witnesses. Contends that although Zameer Hussain (PW-11) was mentioned as witness in the FIR but the Police did not record his statement under section 161, Cr.P.C., therefore, the said witness could not be examined to corroborate the solitary evidence of other eye-witness i.e. the complainant.


5. On the other hand, learned Law Officer has defended the impugned judgment by contending that the judgment of the learned High Court is well reasoned, based on correct principles of law and has examined the evidence in its true perspective, therefore, the same does not call for any interference by this Court.


6. We have heard learned counsel for the parties at some length and have perused the evidence available on the record with their able assistance.


       The ocular account in this case has been furnished by Ch. Jameel Hussain, complainant (PW-10) and Zameer Hussain (PW-11). These prosecution witnesses were subjected to lengthy cross-examination by the defence but nothing favourable to the appellant or adverse to the prosecution could be produced on record. Both these PWs remained consistent on each and every material point inasmuch as they made deposition exactly according to the circumstances happened in this case, therefore, it can safely be concluded that the ocular account furnished by the prosecution is reliable, straightforward and confidence inspiring. The medical evidence available on the record corroborates the ocular account so far as the nature, time and impact of the injury on the person of the deceased is concerned. So far as the argument of learned counsel for the appellant that the medical evidence contradicts the ocular version is concerned, we may observe that where ocular evidence is found trustworthy and confidence inspiring, the same is given preference over medical evidence. It is settled that casual discrepancies and conflicts appearing in medical evidence and the ocular version are quite possible for variety of reasons. During turmoil when live shots are being fired, witnesses in a momentary glance make only tentative assessment of points where such fire shots appeared to have landed and it becomes highly improbable to mention their location with exactitude. As far as the question that the complainant was brother of the deceased, therefore, his testimony cannot be believed to sustain conviction of the appellant is concerned, it is by now a well established principle of law that mere relationship of the prosecution witnesses with the deceased cannot be a ground to discard the testimony of such witnesses unless previous enmity or ill will is established on the record to falsely implicate the accused in the case. Both these PWs were inmates of the house, in front of which occurrence took place, therefore, their presence was natural and the same is fully established from the record. Learned counsel for the appellant could not point out any reason as to why the complainant has falsely involved the appellant in the present case and let off the real culprit, who has committed murder of his real brother. Substitution in such like cases is a rare phenomenon. The complainant would not prefer to spare the real culprit who murdered his brother and falsely involve the appellant without any rhyme and reason. During the course of proceedings, the learned counsel contended that there are material discrepancies and contradictions in the statements of the eye-witnesses but on our specific query he could not point out any major contradiction, which could shatter the case of the prosecution. While appreciating the evidence, the court must not attach undue importance to minor discrepancies and such minor discrepancies which do not shake the salient features of the prosecution case should be ignored. The accused cannot claim premium of such minor discrepancies. If importance be given to such insignificant inconsistencies then there would hardly be any conviction.


7. It was one of the arguments of learned counsel for the appellant that although Zameer Hussain (PW-11) was mentioned as witness in the FIR but his statement under section 161, Cr.P.C. was not recorded, therefore, his testimony cannot be relied upon to sustain conviction of the appellant. However, we do not tend to agree with the learned counsel. To arrive at a just conclusion, the courts can call any person likely to be acquainted with the facts of the case after ascertaining it from the Public Prosecutor or the complainant, subject to general provisions that summoning of any such witness does not cause delay or defeat the ends of justice. Section 265-F(2) of the Code of Criminal Procedure empowers the Courts to summon a person, after having been ascertained from the Public Prosecutor or the complainant, who is likely to be acquainted with the facts of the case and to be able to give evidence for the prosecution. Section 265-F(7) grants even to the accused a right to apply for summoning any witness and production of documents. The very purpose of section 265-F is to ensure the concept of a fair trial and to achieve this purpose equal opportunity has been given to both the accused and the prosecution for summoning the evidence. There is nowhere mentioned in this Section that only those witnesses could be examined whose statements under section 161, Cr.P.C. have been recorded. Under this provision of law i.e. section 265-F the Trial Court is not bound to record the statements of only those witnesses who have been listed in the calendar of witnesses. On the other hand, section 540, Cr.P.C. empowers the Trial Court to summon a material witness even if his name did not appear in the column of witnesses provided his evidence is deemed essential for the just and proper decision of the case. In the present case, although the statement of Zameer Hussain (PW-11) under section 161, Cr.P.C. could not be recorded by the Police yet the fact remains that he was named as an eye-witness in the very FIR and was fully acquainted with the facts and circumstances of the case. It would be advantageous to reproduce section 540, Cr.P.C., which is as follows:-



       "540. Power to summon material witness, or examine persons present. Any Court may, at any stage of any inquiry, trial or other proceeding under this Code, summon any person as a witness, or examine any person in attendance, though not summoned as a witness, or recall and re-examine any person already examined; and the Court shall summon and examine or recall and re­-examine any such person if his evidence appears to it to be essential to the just decision of the case".


8. This section is divisible in two parts. In the first part, discretion is given to the Court and enables it at any stage of an inquiry, trial or other proceedings under the Code, (a) to summon anyone as a witness, or (b) to examine any person present in the Court, or (c) to recall and re-examine any person whose evidence had already been recorded. On the other hand, the second part appears to be mandatory and requires the Court to take any of the steps mentioned above if the new evidence appears to it essential to the just decision of the case. The object of the provision, as a whole, is to do justice not only from the point of view of the accused and the prosecution but also justice from the point of view of the society. The Court examines evidence under this section neither to help the prosecution nor to help the accused. It is done neither to fill up any gaps in the prosecution evidence nor to give it any unfair advantage against the accused. Fundamental thing to be seen is whether the Court considers this evidence necessary in the facts and circumstances of the particular case before it. If this results in only "filling of lacuna" that is purely a subsidiary factor and cannot be taken into consideration. There is no bar that a witness, whose statement under section 161, Cr.P.C. had not been recorded at the time of investigation, cannot be allowed to examine under section 540, Cr.P.C. When a witness examined in Court, whose statement has not been recorded at the time of investigation under section 161, Cr.P.C., the evidentiary value to be attached to the evidence of such witness has to be looked into and if it is found that prejudice has been caused to the accused then the evidence of such witness may or may not be acted upon. Therefore, the argument of the learned counsel for the appellant is misconceived.


9. In Abid Ali v. The State (2011 SCMR 208), this Court has held that to believe or disbelieve a witness, all depends upon intrinsic value of the statement made by him. There cannot be universal principle that in every case, interested witnesses should be disbelieved or disinterested witnesses be believed. It all depends upon the rule of prudence and reasonableness to hold that a particular witness was present on scene of crime and that he is making true statement. Person who is reported otherwise to be very honest, aboveboard and very respectable in society, if gives a statement which is illogical and unbelievable, no prudent man despite his nobility would accept such statement. As a rule of criminal jurisprudence, prosecution evidence is not tested on the basis of quantity but quality of evidence. It is not that who is giving evidence and making statement. What is relevant is what statement has been given and it is not the person but the statement of that person which is to be seen and adjudged. In Niaz-ud-Din v. The State (2011 SCMR 725), it was held that conviction in a murder case can be based on the testimony of a single witness, if court is satisfied that he is reliable and it is the quality of evidence and not the quantity which matters. The same was the view of this Court in Asim v. The State (2005 SCMR 417), Lal Khan v. The State (2006 SCMR 1846) and Muhammad Sadiq v. The State (2022 SCMR 690). In this view of the matter, even if the testimony of Zameer Hussain is discarded, the evidence of complainant is sufficient to sustain conviction of the appellant.


10. So far as recovery of crime weapon is concerned, after his arrest on 26.01.2014, the appellant got recovered .30 bore pistol and the same was sent to Forensic Science Laboratory on 04.02.2012. The one crime empty had already been

Wednesday, 22 May 2024

Conduit of judicial inquiry

 Art 106 of the Police Order 2002 covers the conduct of judicial inquiry with a request to Chief Justice of the High Court under intimation to the Government to appoint a Judge not below the District and Sessions Judge for said purpose.


If the Provincial Police Complaints Authority receives from the District Public Safety Commission or Head of District Police any report of death, rape or serious injury to any person in police custody it would take steps to preserve evidence relating to such incident and request the Chief Justice of the High Court under intimation to the Government to appoint a Judge not below the District and Sessions Judge for a judicial enquiry.


Clauses (c) & (d) of Article 155(1) of Police Order 2002 are relevant to the subject under discussion because for willful breach or neglect of any provision of law or of any rule or regulation or any order which the police is bound to observe or obey or guilty of any violation of duty, FIR can be registered as being cognizable offences but under Article 155(2) of the Police Order, it still needs a sanction for prosecution in the form of report in writing by an officer authorized in this behalf under the rules. Article 2 (xxiii) of Police Order, 2002 says, ‘rules’ means rules made under this Order and as per Article 186 of Police Order, 2002 “Existing police deemed to be constituted under this Order” therefore, Police Rules,1934 shall also be deemed applicable until the new rules are framed. As per Police Rules, 1934, Deputy Inspector General of Police is the authorized officer for granting sanction for prosecution.


It is held that for initiation of departmental action against any rank of police officer/official, different authorities are authorized in the police hierarchy but for judicial prosecution respective Deputy Inspector General of Police is the authorized officer. Therefore, despite registration of FIR, sanction of prosecution shall further determine the continuation of proceedings against the accused police officer/official. If such sanction is not available then court cannot proceed further. This situation has impliedly been met under section 230 of Cr.P.C. 


If required sanction is not given then court can stay the proceeding in trial of such offence or Prosecutor can drop the prosecution of such offence under section 10(3)(f) of the Punjab Criminal Prosecution Service (Constitution, Functions and Powers) Act, 2006.              



Types of offences if committed under Article 156 of the Police Order, 2002, do not require any sanction of authorized officer and being punishable up to five years would be cognizable as per second schedule of Cr.P.C. under segment “offences against other laws”, therefore after registration of FIR it shall be prosecuted through a normal course of trial. However, offence under Article 157 being punishable up to one year shall be non-cognizable as per above scheme; thus, for such offence action can be taken as per Section 155 of Cr.P.C. meant for investigation into non-cognizable offences but if some cognizable offences are also attracted in the series of act, then it shall also be investigated with cognizable offences without the permission of a magistrate.


If a complaint of neglect, failure or excess committed by any police officer/official is received by the ex-officio Justice of the Peace, he can simply pass it to District Police Officer concerned for placing it before the Police Complaints Authority who is authorized to channelize it as per Article 36 of the Police Order, 2002, or ex-officio justice of the peace can direct the aggrieved person to approach the Police Complaints Authority by filing an application and further course of action shall be taken care of by the said authority under the law. If both the directions are not met, ex-officio justice of the Peace can proceed as per law suggested above. 


Establishment of Provincial Police Complaints Authority is essential for action on derelictions of police.

Wednesday, 15 May 2024

درختوں کے فوائد

 نیم کا درخت 55C گرمی 10C سردی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ایک بارہ فٹ کا درخت 3 ایئر کنڈیشنر کے برابر ٹھنڈک پیدا کرتا ہیں۔ درخت زندگی ہیں درخت ایک قیمتی سرمایہ ہیں نیم کے اس پودے کی قیمت 50 سے 100 روپے ھوگی . ۔۔

 درخت لگائیں. زندگیاں بچائیں ۔۔۔🥀



 نیم کا استعمال برصغیر پاک وہند میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے، بدقسمتی سے جدید دور میں ہماری نئی نسل قدرتی اجزاء سے ناواقف ہوتے جارہے ہیں ،جبکہ اسکی افادیت بہت زیادہ ہے اس کے پتے اور چھال ہر قسم کی جلدی امراض میں سب سے زیادہ بہتر ہیں  

کوشش کریں اپنے گھر ، رقبہ ، سڑک کنارے جہاں جہاں ممکن ہو اسکا پودا ضرور لگائیں ۔۔۔

ویسے بھی درخت لگانا صدقہ جاریہ ھے۔۔

Imran Khan appears to supreme court

There are reports of possible internet outages and disruptions starting from tomorrow (May 16, 2024), as The Supreme Court of Pakistan mandated that the federal and Punjab governments provide a video-link setup for imprisoned PTI founder Imran Khan, enabling him to participate and present his case in the National Accountability Bureau (NAB) amendment lawsuit.


“The PTI founder is allowed to present his case through video link at the next hearing if he chooses to,” declared Chief Justice of Pakistan (CJP) Qazi Faez Isa, emphasizing the need for video link facilities.


This directive was issued during the session on the federal government’s intra-court appeal against the Supreme Court’s 2023 decision, which invalidated several NAB amendments. Khan expressed his intention to personally argue his case.



Tuesday, 14 May 2024

Driving license 🏎️

 ڈرائیونگ لائسنس کے ایک ٹیسٹ کے دورانیہ میں ترمیم کر دی گئی ہے پہلے چھ ہفتے بعد دوبارہ ٹیسٹ ہوتا تھا اب پندرہ یوم بعد کر دیا گیا

Refer to the Notification No. HP-I/15-22/2024 dated 28.02.2024 issued by Home Department, Govt of the Punjab. The notification stipulates a significant amendment to the Punjab Motor Vehicle Rules, 1969, specifically Rule 9-3.


2. Pursuant to the aforementioned notification, the period prescribed in Rule 9-3 for re-appearance in the E-sign/Road test following a candidate's failure has been amended. The word in rule 9-3, for the words "six weeks", the words "fifteen days" shall be substituted.


3. In light of this amendment, it is imperative that all candidates who have failed the E-sign/Road test are now eligible to re-take the test after a period of fifteen days. Additionally, the Driving License Issuance Management System (DLIMS) has been updated to reflect these modifications.


4. Therefore, all CTOs and DTOs are directed to ensure the implementation of this revised rule within their respective districts in full letter and spirit to facilitate the public.


5. This may be treated as Most Urgent.



توپ اور سلطنت

 شاہی توپ کی تاریخ 

ہم سلطنت عثمانیہ کی طرف سے قسطنطنیہ (جدید استنبول) کی فتح کا ذکر کر رہے ہیں، جس کی قیادت محمود دوم (جسے فاتح محمود بھی کہا جاتا ہے) نے کیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ نے شہر کی دیواروں کو توڑنے کے لیے "عظیم ترک بمبار" یا "Basilic" نامی ایک بڑی توپ کا استعمال کیا۔


 فتح 53 دن کے محاصرے کے بعد 29 مئی 1453 کو ہوئی۔ عظیم ترک بمبارڈ ایک بہت بڑی توپ تھی، جو مبینہ طور پر 27 فٹ سے زیادہ لمبی اور 2 فٹ سے زیادہ قطر کے ساتھ تھی، جو 1,200 پاؤنڈ تک وزنی پتھر کے پروجیکٹائل کو فائر کرنے کے قابل تھی۔


 محمود دوم کی قسطنطنیہ کی فتح نے بازنطینی سلطنت کے خاتمے اور مشرقی یورپ میں سلطنت عثمانیہ کی توسیع کا آغاز کیا۔

یہی شاہی توپ سیریز میں اربن اُستاد بنا رہے ہیں

.


Monday, 13 May 2024

releaf to Kashmir people

 ہم ساری قوم خود بزدل- ڈرپوک اور کرپٹ ہیں۔ ہمیں کیا پتہ کہ حق کیسے لیتے ہیں۔ ہاں کشمیریوں نے ایک ہفتے میں بتا دیا کہ حق کیسے لیتے ہیں۔ ہم کو صرف 9 مئی کے پیچھے لگا کر بجلی گیس و دیگر اشیاء خوردونوش مہنگی کر دی۔ ہم 

احتجاج تک نہیں کر سکتے۔۔۔ خُدارا اب تو جاگ جائیں 🙏





Sunday, 12 May 2024

important fundamental rights and law

 یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔

 

*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا

*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا

*دفعہ 295-C* توھین رسالت 

*دفعہ 298-A* توھین صحابہ

*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی

 *دفعہ 302* = قتل کی سزا

 *دفعہ 376* = عصمت دری

 *دفعہ 395* = ڈکیتی

 *دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں

 *دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل

 *دفعہ 120* = سازش

 *سیکشن 365* = اغوا

 *دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ

 *دفعہ 34* = سامان کا ارادہ

 *دفعہ 412* = خوشی منانا

 *دفعہ 378* = چوری

 *دفعہ 141* = غیر قانونی جمع

 *دفعہ 191* = غلط ھدف بندی

 *دفعہ 300* = قتل

 *دفعہ 309* = خودکش کوشش

 *دفعہ 310* = دھوکہ دہی

 *دفعہ 312* = اسقاط حمل

 *دفعہ 351* = حملہ کرنا

 *دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی

 *دفعہ 362* = اغوا

*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)

*دفعہ322* = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)

 *دفعہ 415* = چال

 *دفعہ 445* = گھریلو امتیاز

 *دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا

 *دفعہ 499* = ہتک عزت

 *دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔

  4

 ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔


  تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں

 پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،

 جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔


 *(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -


 ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔


 (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔


 عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔


(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -


  سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔


  (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا


 زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔


 (5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا


 پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

 یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔


 یہ پیغام صرف اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو آگے پہنچائ


یں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں

Saturday, 11 May 2024

گدھے کا گوشت

 ‏بنوں بیف پلاؤ فیصل آباد، جڑانوالہ، قصور، للیانی، کاہنہ، لاھور، راجا رام شجاع آباد اور جلال پور پیر والا روزانہ کی بنیاد پر پانچ سے چھ من وزنی گدھے کا گوشت، حرام جانوروں کا گوشت، بدبودار اور مضر صحت گوشت سپلائی کیا جاتا تھا،

 رکشہ پر لوڈ کر کے سپلائی کرنے والوں نے اعتراف کر لیا،

 اور کھاؤ مزے سے بنوں بیف پلاؤ، کٹا پلاؤ، درجہ ذیل ایف آئی آر بغور ملاحظہ فرمائیں شکریہ.



Japanese mind set.

 🇯🇵 Japan will always be way ahead of the rest of the world in terms of education.


🎨 This neighbor decided to paint their house and the painters put up some mesh to protect the other houses from splashes and not uncomfortable during the job.


🚗 In addition, neighbors who were not going to remove their cars while the company was working, they were covered with a tarpaulin so they wouldn't damage them at all... Empathy, education and respect are values I admire in this country

#bestphotochallengeToday #bestphoto#


japan

Law Judgement

 2023 SCMR 246 SUPREME-COURT


Mst. TAYYEBA AMBAREEN VS SHAFQAT ALI KIYANI


S. 5 & Sched.--Suit for restitution of conjugal rights- Approach to be adopted by Courts when deciding such suit- -Husband, duty of-Scope---When a husband claims restitution of conjugal rights in response to the suit for dissolution of marriage, dower, dowry and maintenance filed by the wife, it is an onerous responsibility of the Court to see whether he is sincerely fulfilling his obligations towards his wife, rather than gratifying the urges of male chauvinism---Lodging of claim for restitution of conjugal rights should not be used as weapon to defend or obstruct the claim of dower or maintenance allowance, but must be lodged in good faith and with a bona fide intention to reconcile and rectify the issues between the spouses in order to save the matrimonial tie with magnanimity, kindness and through the fulfillment of the husband's obligations and not as a tool to fight out or frustrate the claim of maintenance allowance or dower amo


unt.

Friday, 10 May 2024

Punjab bar council

 (11.5.24) Tomorrow full day Strike in whole Punjab on call of Punjab bar Council


اگر صوبہ پنجاب میں کسی وکیل صاحب کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا کوئی مقدمہ بابت عدالتی امور درج ہے تو پنجاب بار کونسل کو کاپی ارسل کی جائے 

 

پنجـاب بـار کــونسل



China Police Station

 چین کے شہر ہانزو (Hangzhou) کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ ہے، یہ دنیا کا پہلا اسمارٹ پولیسنگ شہر ہے، حکومت نے شہر میں چالیس ہزار اسمارٹ کیمرے لگ...